158

کامیاب زندگی گزارنے کے لیے پُراعتماد ہونا لازمی ہے.

یہ دیکھا گیا ہے کہ جیسے جیسے انسان کے دل میں اس کی زندگی کا مقصد واضح ہوتا ہے ویسے ویسے اُس کے اعتماد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، ہر انسان کسی نہ کسی نظریے کی تلاش میں رہتا ہے، جب اُس کا نظریہ اس کو مل جائے تو اس کے بعد پھر اُس کے ذہن اور سوچ میں ٹھہراؤ آجاتا ہے، یوں اُس کی شخصیت میں ایک اعتماد آتا ہے۔

لہٰذا اگر آپ کے ذہن میں اپنا نظریہ اور مقصد واضح ہے تو پھر آپ کے لہجے میں بھی اعتماد موجود ہوگا، یوں آپ جب اپنی بات کرتے ہیں تو مُخاطب اس کو سنتا بھی ہے کیونکہ وہ آپ کے لہجے کے اعتماد کو محسوس کرتا ہے اور پھر آپ کے الفاظ کو بھی سمجھتا ہے۔ اِس کے برعکس جن لوگوں کو اپنی زندگی کا مقصد اُن کے ذہن میں واضح نہیں ہوتا تو اُن کے لہجے میں بھی آپ اعتماد کی کمی محسوس کریں گے لہٰذا لوگ اُن کی باتوں میں کشش محسوس نہیں کرپاتے۔

اسی سلسلے کی دوسری کڑی یہ ہے کہ جو بھی آپ کا نظریہ یا مقصد ہو اس پر آپ کو پختہ یقین ہو، اور اس حوالے سے مکمل علم رکھتے ہوں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کبھی بھی دو کشتیوں کے سوار نہ بنیں، دو کشتیوں کا سوار کبھی بھی اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتا لہٰذا تعلیم ہو یا کیریئر، یا پھر زندگی کا کوئی اور موقعہ اپنے ذہن کو ایک نکتہء پر یکسو رکھنا بہت ضروری ہے، یوں آپ کے لیے فیصلے کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔ مشکل بات یہ ہے کہ آج کے دور میں کسی ایک نکتے پر فوکس کرنا ایک مشکل امر ہے لیکن جب آپ اس فوکس کو پالیں تو پھر آپ کو پُر اعتماد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

مقصدیت:

یہ دیکھا گیا ہے کہ جیسے جیسے انسان کے دل میں اس کی زندگی کا مقصد واضح ہوتا ہے ویسے ویسے اُس کے اعتماد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، ہر انسان کسی نہ کسی نظریے کی تلاش میں رہتا ہے، جب اُس کا نظریہ اس کو مل جائے تو اس کے بعد پھر اُس کے ذہن اور سوچ میں ٹھہراؤ آجاتا ہے، یوں اُس کی شخصیت میں ایک اعتماد آتا ہے۔

لہٰذا اگر آپ کے ذہن میں اپنا نظریہ اور مقصد واضح ہے تو پھر آپ کے لہجے میں بھی اعتماد موجود ہوگا، یوں آپ جب اپنی بات کرتے ہیں تو مُخاطب اس کو سنتا بھی ہے کیونکہ وہ آپ کے لہجے کے اعتماد کو محسوس کرتا ہے اور پھر آپ کے الفاظ کو بھی سمجھتا ہے۔ اِس کے برعکس جن لوگوں کو اپنی زندگی کا مقصد اُن کے ذہن میں واضح نہیں ہوتا تو اُن کے لہجے میں بھی آپ اعتماد کی کمی محسوس کریں گے لہٰذا لوگ اُن کی باتوں میں کشش محسوس نہیں کرپاتے۔

اسی سلسلے کی دوسری کڑی یہ ہے کہ جو بھی آپ کا نظریہ یا مقصد ہو اس پر آپ کو پختہ یقین ہو، اور اس حوالے سے مکمل علم رکھتے ہوں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کبھی بھی دو کشتیوں کے سوار نہ بنیں، دو کشتیوں کا سوار کبھی بھی اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتا لہٰذا تعلیم ہو یا کیریئر، یا پھر زندگی کا کوئی اور موقعہ اپنے ذہن کو ایک نکتہء پر یکسو رکھنا بہت ضروری ہے، یوں آپ کے لیے فیصلے کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔ مشکل بات یہ ہے کہ آج کے دور میں کسی ایک نکتے پر فوکس کرنا ایک مشکل امر ہے لیکن جب آپ اس فوکس کو پالیں تو پھر آپ کو پُر اعتماد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

مثبت سوچ رکھنا اور منفی سوچ سے بچنا:

جب آپ کی سوچ مثبت ہوگی تو آپ کا رویہ بھی مثبت ہوگا، یوں آپ کے ذہن میں آنے والے حالات و واقعات کے حوالے سے مثبت منظر کشی ہی ہوگی، یوں مایوسی، خوف اور کنفیوژن جیسی منفی چیزیں آپ سے دور رہیں گی اور آپ ہمیشہ پُراعتماد محسوس کریں گے۔ اس حوالے سے جوزف مرفی نے پوری کتاب لکھی ہے کہ کس طرح آپ کی سوچ کا زاویہ آپ کی عملی اور حقیقی زندگی میں تبدیلی لے کر آتا ہے۔

مثبت سوچ رکھنے کے لیے مثبت افراد کی صحبت بہت ضروری ہے، اپنے اطراف ایسے افراد کو جمع رکھیں جو آپ کو اپنے لیے مثبت محسوس ہوتے ہیں اور جو آپ کے مقصد کو حاصل کرنے میں آپ کا ساتھ دے سکتے ہیں، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ منفی اور ایسے افراد، جو کہ ہمہ وقت قسمت کو کوستے رہتے ہیں، کے ساتھ رہ کر آپ مثبت رویہ رکھ سکتے ہیں تو آپ یقیناً غلطی پر ہیں۔

اپنی تیاری پوری رکھنا:

ہم بات کرتے کرتے رک جاتے ہیں ہچکچاتے ہیں اور اپنا پیغام سننے والے تک نہیں پہنچا پاتے، اسی طرح کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم زندگی میں کوئی بھی عملی قدم جیسا کہ کوئی کاروبار کرنا، کسی امتحان میں بیٹھنا، یا کوئی اہم فیصلہ نہیں لے پاتے، کیونکہ ہم اپنے اندر وہ اعتماد نہیں محسوس کرپاتے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہماری تیاری مکمل نہیں، جب ہماری تیاری مکمل ہوگی تو یقیناً ہمارا لہجہ بھی پراعتماد ہوگا جھجک نہیں ہوگی، آوازکے اُتار چڑھاؤ ہر چیز پر گرفت ہوگی تو یقیناً سننے والے پر بھی ایک مثبت اثر ہوگا۔

اسی کے ساتھ پلان بی بھی ہمیشہ ریڈی رکھنا چاہیے، ہم کنفیوژن اور منفی خیالات کا شکار اس وقت ہوتے ہیں جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے ہمارا موجودہ پلان فیل ہوسکتا ہے اور ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی بیک اپ پلان موجود نہیں تو یقیناً ہم خوف اور کنفیوژن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس پلان بی موجود ہوگا تو آپ کے اعتماد میں بھی بھرپور اضافہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں آپ کو معلوم ہوگا کہ اگر ایک پلان فیل ہوتا ہے تو میرے پاس اس کو ٹھیک کرنے کے لیے دوسرا پلان موجود ہے۔

اللہ کی ذات پر یقین:

انسان کتنی بھی کوشش کرلے، اللہ کی ذات کے سامنے وہ پھر بھی عاجز ہے لہٰذا اللہ کی ذات سے مدد مانگنے والا انسان مطمئن رہتا ہے کہ میں نے اپنی پوری کوشش کرنے کے بعد اللہ سے بھی مدد مانگ لی۔ اب اگر یہ کام ہوجاتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کی رُکاوٹ میں اللہ ہی کی کوئی مصلحت اور بہتری موجود ہوگی، اس سوچ سے یقیناً انسان کا اللہ کی ذات پر یقین بھی پُختہ ہوتا ہے اور وہ اپنے دل میں ایک اطمینان بھی محسوس کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔


اویس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں